نئی دہلی، 6؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے آج کہا کہ ملک کی ترقی سست پڑی ہے کیونکہ بنیادی وجہ نوٹ بندی ہے اور معیشت صرف عوامی اخراجات کے انجن پر چل رہی ہے۔انہوں نے پوزیشن بالخصوص روزگار پر پڑنے والے اثرات کو لے کر گہری تشویش ظاہر کی۔انہوں نے آج کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں اپنے خطاب میں اقتصادی ترقی میں آئی کمی پر تشویش ظاہر کی جو گذشتہ سہ ماہی کے جی ڈی پی کے اعداد و شمار میں جھلک رہی ہے۔کانگریس صدر سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر ہوئی کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں منموہن نے کہاکہ ہندوستان کے گزشتہ مالی سال کی چوتھی سہ ماہی اور پورے مالی سال 2016.17کے جی ڈی پی کے اعداد و شمار کچھ دن پہلے جاری کئے گئے۔ہندوستان کی اقتصادی ترقی میں بھاری کمی آئی ہے، بنیادی طور نومبر 2016میں کی گئی نوٹ بندی کی وجہ سے۔نجی شعبے کی سرمایہ کاری تباہ ہو گئی ہے اور معیشت واحد عوامی اخراجات کے انجن پر چل رہی ہے۔صنعتوں کی جی وی اے جو مارچ 2016میں 10.7فیصد تھا وہ مارچ 2017میں گھٹ کر 3.8فیصد رہ گیا،اس میں تقریبا سات فیصد کمی آئی۔سابق وزیر اعظم نے روزگار کو سب سے تشویشناک پہلو بتایا۔انہوں نے کہا کہ اس میں سب سے تشویش ناک بات روزگار کا اثر ہے،ملک کے نوجوانوں کے لئے روزگار ملنا بہت مشکل ہو گیا ہے،ملک میں سب سے زیادہ روزگار کے مواقع بنانے والا تعمیراتی صنعت سکڑ رہی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ملک میں لاکھوں روزگار ختم ہو رہے ہیں۔